It is requested from the visitors to send their blogs and put your valuable comments

پاکستان میں جاری اسلام اور سیکولرزم کی کشمکش


 

محمد دین جوہر

اس وقت اخبارات، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اسلام اور سیکولرزم کی بحث زوروں پر ہے۔ دھیمے سروں میں یہ بحث بہت پرانی اور غیرنتیجہ خیز ہے، لیکن آجکل اس میں پھر سے تیزی آئی ہوئی ہے۔ یہ بحث کسی پالیسی، بیان، واقعے یا پبلک رائے وغیرہ کے نتیجے میں اچانک دھواں دھار ہو جاتی ہے، اور کچھ عرصے کے بعد بے نتیجہ ختم ہو جاتی ہے۔  لیکن اس کا ایک اثر ضرور مرتب ہوتا ہے کہ طرفین کی باہمی مخاصمت میں اضافہ ہو جاتا ہے، موقف اور پوزیشنیں سخت ہو جاتی ہیں، اور آئندہ بحث کی نتیجہ خیزی بھی موہوم ہو جاتی ہے۔ ہماری گزارش ہے کہ اس بحث کو مفید اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے خود اس بحث کی نوعیت اور خدوخال، اس کے تاریخی اور علمی تناظر، طرفین کی شناخت اور ان کے موقف اور طرز استدلال کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے چند ایک گزارشات ہم ذیل میں پیش کر رہے ہیں۔

(۱) بحث کی نوعیت اور خدوخال:

ہمارے ہاں اسلام اور سیکولرزم کی بحث کے خدوخال واضح نہیں۔ یہ کوئی علمی بحث نہیں ہے کہ طرفین کے مواقف قطعیت سے معلوم ہوں، اور اس کی حیثیت ایک فٹ بال میچ کی طرح بھی نہیں ہے کیونکہ یہ ہمیشہ بے نتیجہ ختم ہو جاتی ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ اسلام اور سیکولرزم کی دھینگامشتی کہا جا سکتا ہے جو پست ترین انسانی اور ذہنی سطح پر واقع ہوتی ہے۔ دھینگا مشتی بحث“ اور ”میچ“ کا ملغوبہ ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ نہ کبھی نتیجہ خیز ہوئی ہے اور نہ ثمرآور۔ یعنی اس بحث کے نتیجے میں کہیں کوئی علمی ترفع واقع نہیں ہوتا، دلیل کو کوئی سرفرازی نصیب نہیں ہوتی، اور اعلیٰ اخلاقیات کے مظاہر بھی سامنے نہیں آتے۔ بات جوتم پیزار، تکفیربازی، غدارسازی وغیرہ سے آگے ہی نہیں بڑھ پاتی۔ ہماری ناقص رائے میں یہ بحث نہایت اہم ہے، لیکن اس کے نتائج نہایت افسوسناک ہوتے ہیں جو سماجی صحت اور قومی سلامتی کے لیے گہرے ضرر کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔ جس بحث کا نتیجہ طرفین کی تذلیل، گالم گلوچ، اتہام بازی وغیرہ کی صورت میں سامنے آئے وہ انسانوں کے لیے کبھی مفید نہیں ہو سکتی۔

علمی بحث“ اور ”فٹبال میچ“ دو مختلف چیزیں ہیں، ایک ذہن کی جدلیات ہے اور دوسری ارادے کی۔ ہمیں اس وقت ذہن کی جدلیات کی ضرورت اس کی پوری شرائط کے ساتھ ہے، کیونکہ اجتماعی سطح پر راستہ صرف ذہن کی جدلیات سے گزر کر ہی روشن ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ راستے کی نشاندہی صرف علم ہی سے ہو گی، اور اقدار اس راستے کو طے کرنے کے وسائل اور منزل کے عزم کے لیے ضروری ہوں گی۔ ہم اپنی دینی اقدار کی وجہ سے مسلمان ہیں، لیکن اقدار پر کاربند ہونا ازخود کسی علمی موقف کا اظہار نہیں ہوتا، کیونکہ اقدار کو بنیاد میں رکھتے ہوئے علمی موقف کی عصری تشکیل ضروری ہوتی ہے۔ تاریخی صورت حال علم کا موضوع ہے اور دونوں تغیرپذیر ہوتے ہیں، اور اقدار کا مخاطب انسان ہے، اور وہ ابدی حق کا مستقل اظہار ہیں اور انسان سے بدلتی ہوئی تاریخ میں ”عبد“ رہنے کا تقاضا کرتی ہیں۔ اقدار، ارادے کی نفسی اور تاریخی جدلیات میں ضروری اور کارگر ہوتی ہیں، ان کو علمی قضایا کے روبرو لانے یا ان کے رد میں پیش کرنے سے ارادے کا اقدار سے تعلق میکانکی ہو کر ختم ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی ذہن کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔

قرن اول میں ہماری دینی اقدار فوراً ہماری تہذیبی اقدار بھی بن گئیں، اس لیے انہیں کسی علمی اور فکری توسیط کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہمارے ہاں علمی اور فکری بحث کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب خاص تاریخی حالات میں ہماری تہذیبی اقدار داخلی جدلیات کا شکار ہو گئیں۔ جدید دنیا کی تشکیل اس سے بالکل برعکس طریقے پر ہوئی ہے۔ اس میں پہلے سے قائم مذہبی تہذیبی اقدار کے انخلا اور ان کی جگہ جدیدیت کی اقدار کو غلبہ دینے کے لیے آگے پیچھے، دائیں بائیں علم کے جنگی دستے چلانے پڑے، جنہوں نے نئی اقدار کو جدید تہذیب کے عین قلب میں قائم کر دیا۔ اب یہ تاریخ کا معمول ہے اور اس کا لحاظ رکھنا ہم پر بھی ایک جبر کی صورت میں مسلط ہے۔ اس میں ہم اپنی دینی اقدار کا بار بار اعادہ کر کے نہ ان کو قوت دے سکتے ہیں، اور نہ انہیں معاشرے اور اجتماع میں فنکشنل بنا سکتے ہیں۔ اس کے لیے علم کے دستوں کی ضرورت ہے اور سچ یہ ہے کہ علم دشمنی ہمارے انفرادی اور اجتماعی وجود کی نادیدہ تہوں میں بھی رچ بس گئی ہے۔

جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ روایتی طور پر اجتماعی معاملات ہمارے ہاں اقدار کا موضوع رہے ہیں لیکن جدید دنیا میں وہ علم کا موضوع ہیں۔ مثلاً سیاسی طاقت سے کیا مراد ہے؟ سیاسی طاقت کی جدید تشکیل کا منہج کیا ہے؟ ریاست کی نوعیت کیا ہے؟ قانون اور قانون سازی کے منابع اور طریقۂ کار کیا ہے؟ کلچر کیا ہے؟ خود علم اور اقدار سے کیا مراد لیا جاتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ گویا سوالات کی ایک طویل فہرست ہے جس پر جدید تہذیب اور ذہن نے علمی گولہ بارود کے ذخیرے جمع کیے ہوئے ہیں اور ان کی توپیں بھی بڑے دھانے والی اور دورمار ہیں۔ اگر اقدار کو علم کی کمک حاصل نہ رہے تو ان کی حیثیت اس کی آدمی کی طرح ہو جاتی ہے جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہو۔ ہم نے دیانت داری سے عصری صورت حال کو سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔ یہ کام صرف ذہن کی جدلیات میں رہ کر ہی ممکن تھا۔ مثلاً کوئی ہم سے اگر پوچھ لے کہ دین کا سیاسی نظام کیا ہے؟ تو ہم جواب میں کہیں گے خلافت۔ لیکن عصر حاضر میں انسانی اجتماع کو منظم کرنے کے لیے اس کی علمی تفصیل اور فکری جہات کو اجاگر کرنا پڑے گا جن کا ہمیں ابھی کوئی شعور ہی نصیب نہیں ہے، جواب تو بعد کی بات ہے۔ مثلاً ہم جدید ریاست کی فکری تفصیلات طے کیے بغیر اسے اسلامی کہنا چاہتے ہیں۔ جدید سرمایہ داری نظام کو بھی اسی بنیاد پر اسلامی کہنا چاہتے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس۔ اس رویے کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ اہل علم کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ہمیں نہ اسلامی کا کوئی شعور باقی رہا ہے اور نہ ہم میں جدید ریاست یا جدید دنیا کے موثرات وغیرہ کا کوئی ادراک پایا جاتا ہے۔

سیکولر طبقہ یہی سوالات اٹھا رہا ہے اور مسلم ذہن ان سوالوں کے سامنے جھنجھلاہٹ کا شکار ہو کر فوراً ہزیمت کا شکار ہو جاتا ہے یا لڑنے مارنے پر اتر آتا ہے۔ اس جھنجھلاہٹ میں ہم اپنی اقدار کو اشتہار بنانے کا کام کرتے ہیں اور وہ بھی صرف ان جگہوں پر جہاں ہمیں کوئی گنجائش ملتی ہے۔ ابھی پاکستان میں اسلام پسندوں کے لیے کچھ گنجائش باقی ہے۔ جس دن پاکستانی ریاست نے سیکولر ہونے کا فیصلہ کر لیا، جس کا امکان بڑھتا جا رہا ہے، اس دن کوئی ہماری بات سننے کا بھی روادار نہیں ہو گا اور ہمیں اپنے سارے نعرے اور مواقف طاق نسیاں میں دھرنے پڑیں گے۔ دنیا میں ان پڑھ آدمی کو بھی اپنی اقدار ازبر ہوتی ہیں جس کا لازمی نتیجہ اس کا صاحب علم ہونا نہیں ہوتا۔ ہم اپنی اقدار کی آڑ میں سیکولر طبقے کو گالیاں دے کر یہ جنگ نہیں جیت سکتے، کیونکہ اقدار کی حفاظت کا پہلا مرحلہ علم ہے اور دوسرا تلوار۔ ہمیں خوش فہمی ہے کہ سیکولر طبقے سے ہمارا سابقہ صرف گوالمنڈی تک محدود ہے۔ ایسی بات نہیں ہے۔ یہاں تو ہم اپنے دو چار لڑکوں کو بلا کر انہیں سٹکنے پر مجبور کر دیتے ہیں، لیکن باہر عالمی مال روڈ پر تو ان کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگے ہوئے ہیں، اس کا ہم کیا علاج تجویز فرماتے ہیں؟

پاکستان میں سیکولر طبقے کی یہ بڑی مہربانی ہے کہ وہ طاقت، معیشت، کلچر اور تعلیم کے تمام وسائل پر قابض ہونے اور عالمی دھارے میں شامل اور اس سے جڑے ہونے کے باوجود ہم سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں، باقی جگہوں پر تو وہ مذہبی آدمی سے بات کرنا ہی اپنی کسرشان سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سے بات اسی سطح پر شروع کی جائے جس پر وہ چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اپنی نااہلی اور عدم تحفظ کی نفسیات کی وجہ سے اس موقعے سے فائدہ نہیں اٹھا پائے۔ اوریا مقبول جان صاحب کے دیندار ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کسی علمی یا تہذیبی بصیرت کے حامل بھی ہیں، اور اس دینداری کی وجہ سے انہیں فتوے یا کاروکاری کا اختیار بھی حاصل ہو گیا ہے۔ جس طرح ضیاء الحق کی اصلاحات سے ہم ایک اسلامی معاشرہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں، اسی طرح اوریا صاحب کی کوششوں سے ہم اسلامی فکر میں بھی اتنی ہی پیشرفت کر پائیں گے۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہمارے ہاں سیکولر طبقہ اس طرح کا زہریلا اور قاتل نہیں ہے جس طرح کا مثلاً مصر، مراکش، تیونس، الجزائر، ترکی، ایران، وسطی ایشیا وغیرہ میں رہا ہے یا ہے۔ ہمارے ہاں سیکولر طبقے میں کشادگی کا ایک عنصر ہمیشہ موجود رہا ہے، جو مذہبی طبقے میں بالکل ہی غیرموجود ہے۔

سیکولر طبقے سے ہمارا گلہ دوسری نوعیت کا ہے۔ ان کا رویہ مقامی کلچر اور مذہب کی طرف بالکل ویسا ہی تحقیر کا ہے جو یہاں استعماری گوروں کا تھا۔ بدقسمتی سے کچھ مخصوص ثقافتی حالات کی وجہ سے، جس میں تعلیم سرفہرست ہے، یہ ان کی نفسیات کا حصہ ہے، علمی موقف نہیں ہے۔ افسوس کہ اس تحقیر میں بعض اوقات اپنے ملک، کلچر اور یہاں کی روایات سے بے وفائی کا رنگ بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔ ان کے اپنے درست ہونے کی واحد دلیل ان کا عالمی طاقت اور سرمائے سے جڑے ہونا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنی جدید تعلیم اور جدید ثقافتی شناخت کے باعث مغرب سے کبریت احمر ہاتھ لگ گئی ہے جو یہاں کے سارے مسائل کا حل ہے، جبکہ اس کبریت احمر کا وہاں جو ملیدہ بنا ہوا ہے اس کی طرف وہ کوئی دھیان نہیں دیتے۔ سیکولر طبقے نے وسائل کے باوجود یہاں کے خاص ثقافتی، تاریخی اور مذہبی مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسی بڑی فکر کی طرف بھی کبھی کوئی پیشرفت نہیں کی، اور اپنی بہتر سماجی اور معاشی پوزیشن کی آڑ لے کر غیر سنجیدہ بحثوں سے اہل وطن کا ناطقہ بند کیے رکھتے ہیں۔ وہ ملک میں جن سیاسی، معاشی اور ریاستی اداروں پر مکمل طور پر قابض ہیں ان کی اصلاح اور ان کو عوام دوست بنانے کی بھی وہ کبھی بات نہیں کرتے۔ اپنی نادانی کی وجہ سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آئین اور قانون کی چند ایک ایسی شقیں جو مذہبی محتویٰ کی حامل ہیں، ہماری ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے ریاست کے پورے استعماری ڈھانچے کو کبھی موضوع بنانے کی بات نہیں کی۔ وہ جلب منفعت اور لوٹ مار کے لیے ریاست کے سارے ذرائع کو استعمال کر کے اپنی معاشی حالت بہتر بنانے اور وسائل بیرون ملک منتقل کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی معلوماتی پوزیشن مضبوط ہو لیکن ان کی اخلاقی پوزیشن خاصی افسوسناک ہے۔

یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ عوام دوستی پر سیکولر اور مذہبی طبقہ بالکل ایک جیسی سیاسی اور نام نہاد علمی پوزیشن رکھتے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے سیکولرزم اور مذہبی تعبیرات سے عوام کو کوئی سکھ یا فائدہ ملنے والا نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ سیکولر اور مذہبی طبقات کی ریاست کی بحث میں حد درجہ اقتصاری اور بیمارانہ دلچسپی ہے۔ ایک کہتا ہے کہ ریاست سیکولر ہوتی ہے اور دوسرا کہتا ہے کہ مذہبی ہوتی ہے۔ بس یہ ہے ان کی بحث۔ کیا ریاست قومی ترقی، عوام کی معاشری بہتری، عدلِ اجتماعی، انسان کی آزادی اور انصاف کی فراہمی میں بھی کوئی معنی یا رول رکھتی ہے یا نہیں، یہ ان سب کی بحث سے خارج ہے بلکہ اگر کوئی یہ سوال اٹھائے تو اس کے خلاف یہ دونوں متحد ہو جاتے ہیں۔ دونوں طبقات یہ بھول گئے ہیں کہ عدل اجتماعی کا آدرش سیکولر یا مذہبی میں منقسم نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا واحد مطلب معاشی استحصال کا خاتمہ اور معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے، اور یہ بات دونوں طبقات کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ سیکولر طبقہ تخلیق پاکستان سے اب تک حکمران ہے، اور اگر وہ اسے ایک ترقی یافتہ ملک اور منصفانہ معاشرہ بنانے ہی کا ارادہ کر لیتے تو یہ بحث ویسے ہی ختم ہو جاتی۔

(۲)  تاریخی اور فکری تناظر

ہمارے ہاں اسلام اور سیکولرزم (ہم یہاں ناموں کی تفصیل میں نہیں جاتے) کی بحث ۱۸۵۷ سے پہلے کی ہے اور اس جنگ کے بعد اس بحث کا فیصلہ مذہبی طبقے کے خلاف اور جدید طبقے کے حق میں ہو گیا۔ اب تک تاریخ سیکولر یا نیم سیکولر طبقے کے ہمرکاب ہے، اور مذہبی طبقہ صرف ردعمل میں ہے۔ جدید تعلیم، نئی ثقافت اور خاص طور پر جدید معاشی رشتوں کی وجہ سے زمین مذہبی طبقے کے پیروں تلے سے مسلسل نکل رہی ہے اور اسے اپنے موقف کا دفاع کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مذہبی طبقے کے موقف اور کوشش کے علی الرغم ہمارا معاشرہ سیکولر بننے کا عمل تقریباً مکمل کر چکا ہے، اور مذہبی طبقہ اس عمل میں اب شکست اور پسپائی سے دوچار ہے۔ اس عمل کے محرک تمام سیاسی، معاشی اور ثقافتی مؤثرات سیکولر طبقے کے پاس ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور نئی معاشی قوتوں کی وجہ سے بھی اس عمل میں بہت تیزی آ گئی ہے اور مذہبی طبقے اور مذہب سے لگاؤ رکھنے والوں کی جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ اگر آدمی حالت انکار میں نہ ہو تو تاریخ کے سفر کی سمت صاف ظاہر ہے۔

اگر بات کو بالکل سادہ بنایا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ سیکولر طبقے کا نعرہ ”ترقی“ رہا ہے اور مذہبی طبقے کا نعرہ مذہب کا ”دفاع“ رہا ہے۔ ان دونوں نعروں کا اظہار ایک مشترک سیاسی دائرے میں ہوتا ہے، جس سے ایک جدلیاتی فضا کا التباس پیدا ہو جاتا ہے۔ سیاسی موقف کا کوئی بھی تعلق علم، اخلاق وغیرہ سے نہیں ہوتا، صرف طاقت اور سرمائے سے ہوتا ہے۔ سیکولر طبقے کی ”ترقی“ کا مطلب صرف ان کی اپنی ترقی ہے اور مذہبی طبقے کے ”دفاع“ کا مطلب بھی صرف ان کا اپنا دفاع ہے۔ اس ”ترقی“ اور ”دفاع“ میں دونوں طبقات کو ریاست کی مرکزی اہمیت کا اندازہ ہے۔ علم اور بحث کے سارے قلابے اس لیے ملائے جاتے ہیں کہ ریاست کے طاقتی اور معاشی وسائل تک رسائی حاصل ہو جائے۔ ان دونوں کی باہمی جنگ سے اب تک جتنی ”ترقی“ ہوئی ہے، اور اسلام کا جس قدر ”دفاع“ ہوا ہے وہ تو اب نوشتۂ دیوار ہے، اس کے لیے کسی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔ سیکولر طبقہ اہل مذہب کو ”ترقی“ کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتا ہے اور مذہبی طبقہ سیکولرسٹوں کو ”دفاع“ میں رکاوٹ خیال کرتا ہے۔ لیکن ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کا باہمی نزاع بھی مستقل ہے اور مفادات پر مفاہمت بھی مستقل ہے۔ سیکولرسٹوں کی وجہ سے عوام کے حصے میں جتنی ”ترقی“ آئی ہے اور مذہبی لوگوں کی وجہ سے عوام میں دینداری کو جو فروغ حاصل ہوا ہے وہ تو سب کو نظر آ رہا ہے۔ عوام کے حصے میں صرف تماش بینی ہی آتی ہے۔ اگر سماجی، سیاسی اور معاشی تجزیے کے دیانتدارانہ اسالیب کو اختیار کیا جائے تو صاف اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس ”ترقی“ اور ”دفاع“ کی قیمت عوام نے خاک و خون سے ادا کی ہے۔

اسلام سے محبت رکھنے اور اسے ابدی سرچشمۂ ہدایت ماننے والوں کے لیے یہ صورت حال انتہائی افسوسناک ہے۔ ہمارے خیال میں اس صورت حال کی بڑی وجہ ہمارے ہاں علوم کی موت ہے، جس سے نہ ملکی ترقی ہو پاتی ہے اور نہ اسلام کا دفاع ہو پاتا ہے کیونکہ ملکی ترقی اور مذہب کے دفاع کے لیے واحد ضروری وسیلہ علم ہی ہے۔ ہمارے ہاں علوم کی موت کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک آقائے سرسید کا استعماری علم الکلام ہے اور دوسری وجہ ہمارے ہاں بنیادی عقائد پر ہونے والا وہ داخلی مناقشہ ہے جو اٹھارھویں صدی کے اواخر میں شروع ہوا اور بیسویں صدی کے نصف اول میں بے نتیجہ ختم ہو گیا۔ ہماری کلاسیکل پوزیشن ہمیشہ یہ رہی ہے کہ علم، عقیدے کی فرع ہے اور عقیدے کی بحث میں فتوی یا اخلاقی مواعظ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ متقدمین میں اشاعرہ اور معتزلہ کی بحث کا یہی بنیادی نکتہ ہے۔ سیکولرسٹوں کے ساتھ بھی بحث کا اسلوب وہی ہو گا جو معتزلہ کے ساتھ تھا، کہ دلیل اور رد دلیل سے بات کی جائے گی، اور فتوی اور اخلاقی مواعظ سے کام نہیں لیا جائے گا۔ سیکولرسٹوں سے ہونے والی بحث میں ہم کوئی علمی بات تو نہیں کرتے، بس فتوی اور مواعظ جاری کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں سیکولرسٹ خاموش ہو جاتے ہیں۔ لیکن جدید تاریخ کے مؤثرات تو اس بحث کے تابع نہیں ہیں، اور وہ اپنا کام کرتے رہتے ہیں، اور انہوں نے ہمارے مذہبی معاشرے کو اندر سے بالکل کھوکھلا کر دیا ہے۔ سیکولرسٹوں کی بات رک جانے سے معاشرے کے سیکولر بننے کا عمل تو نہیں رک پاتا۔ اس صورت حال کو مذہبی طبقہ اپنی فتح کا اعلامیہ سمجھتا ہے اور اسے معلوم نہیں ہو رہا کہ اس کی جگہ اور گنجائش کس قدر کم ہو گئی ہے۔

یہ عمل صرف ریاست کی سطح پر واقع نہیں ہو رہا، بلکہ معاشرے کی ہر سطح پر بھی بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ کوئی قانونی شق تو ہم مظاہرہ وغیرہ کر کے بچا سکتے ہیں، جو ضروری بھی ہے، لیکن معاشرہ جس نہایت بنیادی تبدیلی سے گزر رہا ہے، اور جس طرح سے دینی اقدار اجنبی ہوتی جا رہی ہیں، کیا ان کی بات کرنا دین کے دفاع میں شامل نہیں ہے؟ تاریخی مؤثرات کو وعظ و نصیحت سے لگام نہیں دی جا سکتی۔ اس کام کے لیے علمی اور فکری تجزیے اور ان کی بنیاد پر بننے والی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے، اور ہر قدم پر مورچہ لگانا پڑتا ہے، لیکن ہم اس دفاع کی بات نہیں کرتے۔ تحکم، ادعایت، مذہبی بلیک میل اور مانعاتی ہتھکنڈوں سے لوگوں کو مذہب سے دور تو کیا جا سکتا ہے، قریب نہیں لایا جا سکتا۔ مذہبی دفاع اور بقا کے لیے صرف سیاسی وسائل پر مرتکز رہنا اور دیگر تمام تہذیبی وسائل کو سیکولرزم کے سپرد کر دینے سے ہم دینی دفاع کی کون سی جنگ لڑ رہے ہیں؟ ہمیں تھوڑی دیر رک کر دیانتداری سے اپنے حالات اور احوال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

بلاگز

سرگرمیاں

آرکائیوز